صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۸ - ادھار خریداری میں گروی رکھنے کا جواز
ادھار خریداری اور گروی: زرہ گروی رکھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۰۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۸
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ " .
اعمش روایت:
ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں (سامان) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھا خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ادھار خریداری اور گروی رکھنے کا ذکر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ مقررہ مدت کے لیے ادھار خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ادھار لین دین میں ضمانت کے طور پر کوئی چیز گروی رکھنا ایک معروف معاملہ تھا۔ حدیث میں غلہ، مدت مقرر ہونا، اور لوہے کی زرہ کا گروی رکھنا تینوں باتیں صاف ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ مالی ہو تو اسے واضح رکھنا چاہیے۔ خرید و فروخت، قرض، اور رہن میں ذمہ داری ضروری ہے تاکہ بعد میں جھگڑا نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ادھار خریداری میں مدت مقرر ہونا اہم ہے۔
- مالی معاملے میں گروی رکھی ہوئی چیز ضمانت بن سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید و فروخت میں واضح معاملہ فرمایا۔
- رہن کا مقصد مالی ذمہ داری کو مضبوط بنانا ہے۔
