صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۹ - نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سادگی اور قرض

نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سادگی: جَو، زرہ اور گھر والوں کی ضرورت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۹

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ أَبُو الْيَسَعِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ ، وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعُ ، بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ ، وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ .

انس روایت:

´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسباط ابوالیسع بصریٰ نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی (سالن کے طور پر) لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے یہاں گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے قرض لیا تھا۔ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں کوئی شام ایسی نہیں آئی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کوئی غلہ موجود رہا ہو، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیوں کی تعداد نو تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی، گھر والوں کی ضرورت، اور رہن کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی لے گئے۔ اسی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لیا۔ پھر یہ بات بھی بیان ہوئی کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاع گیہوں یا کوئی غلہ شام کے وقت موجود نہیں رہتا تھا، حالانکہ آپ کی نو ازواج تھیں۔ اس حدیث سے دنیاوی سادگی، ضرورت کے وقت جائز مالی معاملہ، اور گھر والوں کی فکر سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سادگی نمایاں تھی۔
  • گھر والوں کی ضرورت پوری کرنا ذمہ داری ہے۔
  • ضرورت کے وقت گروی رکھ کر غلہ لینا روایت میں آیا ہے۔
  • مال کی کمی کے باوجود صبر اور وقار کا پہلو سامنے آتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں