صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۲ - بیع سلم میں رہن

بیع سلم میں رہن: ادھار سودا اور لوہے کی زرہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۲

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ ، الرَّهْنَ فِي السَّلَفِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ، وَارْتَهَنَ مِنْهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ " .

اعمش روایت:

ہم نے ابراہیم نخعی کے سامنے بیع سلم میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ہم سے اسود نے بیان کیا، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی لوہے کی زرہ گروی رکھ دی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۲ کا خلاصہ

اس روایت میں بیع سلم یا ادھار خریداری کے ساتھ رہن کا ذکر آیا ہے۔ اعمش کہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی کے سامنے بیع سلم میں گروی رکھنے کی بات ہوئی، تو انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کی۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے مقررہ مدت کے لیے غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ گروی رکھ دی۔ اس حدیث کا اصل سبق مالی معاملے کی سنجیدگی ہے۔ جب مدت طے ہو اور چیز بعد میں ادا یا وصول ہونی ہو تو رہن معاملے کو واضح بنا سکتا ہے۔ متن میں صرف یہی واقعہ بیان ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مقررہ مدت کے ادھار معاملے میں رہن کا ذکر آیا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ گروی رکھی۔
  • بیع سلم میں مالی ذمہ داری کو واضح رکھنا چاہیے۔
  • حدیث میں یہودی سے غلہ خریدنے کا واقعہ بیان ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں