صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۳ - بیع سلم کی شرائط
بیع سلم کی شرائط: پیمانہ، وزن اور مدت معلوم ہو
صحیح بخاری : ۲۲۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۳
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ ، فَقَالَ : " أَسْلِفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَقَالَ : فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ .
عبداللہ بن عباس روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ پھلوں میں بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے لیے کیا کرو۔ اور عبداللہ بن ولید نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ ”پیمانے اور وزن کی تعیین کے ساتھ“ (بیع سلم ہونی چاہئیے)۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں مدینہ کے لوگوں کے ایک رواج کا ذکر ہے کہ وہ پھلوں میں دو یا تین سال تک کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کو بند نہیں کیا بلکہ اسے واضح شرطوں کے ساتھ درست سمت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھلوں میں بیع سلم مقررہ پیمانے اور مقررہ مدت کے لیے کرو۔ دوسری روایت کے الفاظ میں پیمانہ اور وزن دونوں کی تعیین کا ذکر ہے۔ اس حدیث سے بیع سلم کی شرائط بہت صاف سمجھ آتی ہیں: چیز، مقدار اور وقت معلوم ہوں۔ اس طرح خریدار اور بیچنے والے کے درمیان بات مبہم نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ بیع سلم کی حدیث تلاش کرنے والے اس روایت کو خاص طور پر دیکھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع سلم میں پیمانہ معلوم ہونا چاہیے۔
- مدت پہلے سے طے کرنا ضروری بتایا گیا ہے۔
- پھلوں کے معاملے میں بھی شرطیں واضح رہیں۔
- حدیث میں وزن کی تعیین کا بھی ذکر آیا ہے۔
