صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۸ - رہن، سادگی اور قناعت کی حدیث

گروی رکھنے کی حدیث: رہن، سادگی اور قناعت کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۸

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ بِشَعِيرٍ ، وَمَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : مَا أَصْبَحَ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَاعٌ ، وَلَا أَمْسَى ، وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ أَبْيَاتٍ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ جَو کے بدلے گروی رکھی تھی۔ ایک دن میں خود آپ کے پاس جَو کی روٹی اور باسی چربی لے کر حاضر ہوا تھا۔ میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ آل محمد پر کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں آئی کہ ایک صاع سے زیادہ کچھ اور موجود رہا ہو، حالانکہ آپ کے نو گھر تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع رہن، یعنی ضرورت کے وقت کوئی چیز گروی رکھنا، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے گھرانے کی سادہ زندگی ہے۔ روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی زرہ جَو کے بدلے گروی رکھی تھی۔ وہ خود آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس جَو کی روٹی اور باسی چربی لے کر گئے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں کھانے پینے کا سامان بہت محدود تھا۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ آل محمد صلى الله عليه وسلم کے پاس صبح و شام ایک صاع سے زیادہ چیز موجود نہ ہوتی، حالانکہ آپ صلى الله عليه وسلم کے نو گھر تھے۔ اس حدیث سے رہن کی حدیث، گروی رکھنے کا حکم، نبی صلى الله عليه وسلم کی سادگی، اور قناعت کی زندگی جیسے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ تنگی کو خود اختیار کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ضرورت میں جائز طریقے سے لین دین کیا جا سکتا ہے اور کم سامان کے باوجود صبر اور وقار رکھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت کے وقت کوئی چیز گروی رکھ کر کھانے پینے کی چیز حاصل کرنا اس روایت میں مذکور ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے گھرانے کی زندگی بہت سادہ تھی، یہاں تک کہ خوراک بھی محدود مقدار میں ہوتی تھی۔
  • کم سامان کے باوجود صبر، قناعت اور وقار کے ساتھ زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
  • گھریلو ضرورت کے لیے جائز لین دین اختیار کرنا اس حدیث کے متن سے سمجھ آتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں