صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۱ - رہن شدہ جانور سے فائدہ اٹھانے کا حکم

رہن شدہ جانور سے فائدہ لینے کا شرعی اصول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۱۱

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : "الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ ، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گروی جانور پر اس کا خرچ نکالنے کے لیے سواری کی جائے، دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے رہن (گروی) کے جانور کے بارے میں اصول بیان فرمایا کہ اگر کوئی جانور گروی رکھا گیا ہو تو اس پر خرچ کے بدلے اس سے فائدہ لیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر جانور سواری کے قابل ہو تو سواری کی جا سکتی ہے اور اگر دودھ دینے والا جانور ہو تو اس کا دودھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جو شخص فائدہ لے رہا ہو وہی اس کا خرچ بھی برداشت کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں لین دین کے معاملات میں توازن اور انصاف رکھا گیا ہے تاکہ کسی ایک فریق پر زیادتی نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رہن میں دی گئی چیز سے محدود فائدہ لیا جا سکتا ہے
  • فائدہ لینے والے پر خرچ کی ذمہ داری ہوتی ہے
  • اسلام مالی معاملات میں انصاف کا حکم دیتا ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں