صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۱ - ادھار خریداری اور رہن
ادھار خریداری کی حدیث: رہن اور امانت کا صاف معاملہ
صحیح بخاری : ۲۲۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۵۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتِ : " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ بِنَسِيئَةٍ ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور اپنی ایک لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک سادہ مگر اہم مالی معاملہ بیان ہوا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔ یہاں اصل موضوع ادھار خریداری اور رہن ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ مالی معاملات میں اعتماد کے ساتھ ساتھ واضح ضمانت بھی رکھی جا سکتی ہے۔ متن میں نہ کسی لمبی بحث کا ذکر ہے نہ کسی اضافی شرط کا؛ صرف اتنا بتایا گیا کہ غلہ ادھار خریدا گیا اور زرہ رہن رکھی گئی۔ اس سے رہن کی حدیث، ادھار سودا اور مالی ذمہ داری کا عملی انداز سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ادھار خریداری میں رہن رکھا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی زرہ بطور رہن رکھی۔
- مالی معاملہ واضح اور ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا۔
- حدیث میں غلہ خریدنے اور رہن رکھنے کا عملی واقعہ ہے۔
