صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۶ - شوہر کی کمائی سے خرچ کا اجر
شوہر کی کمائی سے خرچ کرنا: حدیث کا سادہ حکم
صحیح بخاری : ۲۰۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی اس کی اجازت کے بغیر بھی (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عورت کے خرچ کرنے کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کے حکم کے بغیر خرچ کرے تو اسے آدھا اجر ملتا ہے۔ اس متن میں ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے، اس لیے اس کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔ حدیث خرچ کرنے کی نیکی کو مانتی ہے، مگر ساتھ ہی مال کے اصل کمانے والے کے حق کو بھی نظر انداز نہیں کرتی۔ گھر کے مالی معاملات میں اعتماد، اجازت، اور سمجھ داری ضروری ہے۔ صدقہ اور خیرات اچھی چیز ہے، لیکن گھر کے مال سے خرچ کرتے وقت بے احتیاطی مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کی کمائی سے خرچ کا مسئلہ ذمہ داری سے متعلق ہے۔
- بغیر حکم کے خرچ کرنے کی خاص صورت میں آدھے اجر کا ذکر ہے۔
- صدقہ کرتے وقت مال کے حق دار کا خیال رکھنا چاہیے۔
- گھر کے مالی معاملات میں باہمی اعتماد ضروری ہے۔
