صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۷ - شوہر کے کھانے سے صدقہ
شوہر کے کھانے سے صدقہ: نیت درست ہو تو اجر ملتا ہے
صحیح بخاری : ۱۴۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا ، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِك " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہیں ہوتی تو اسے بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہ ہو، تو اسے بھی ثواب ملتا ہے، خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے، اور خزانچی کو بھی ثواب ملتا ہے۔ اس حدیث میں گھر کے مال سے صدقہ کرنے کا ایک واضح اصول ہے۔ اصل شرط یہ ہے کہ بیوی کا مقصد نقصان پہنچانا یا گھر کا مال بگاڑنا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں نیکی کا کام مل کر بھی ہو سکتا ہے۔ کمانے والا، خرچ کرنے والا اور امانت سے دینے والا، سب اپنے اپنے عمل کے مطابق اجر پا سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوی بگاڑ کی نیت کے بغیر کھانے میں سے صدقہ کرے تو اجر پا سکتی ہے۔
- شوہر کو کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے۔
- خزانچی بھی امانت سے دے تو اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔
- گھر کے مال میں نیت اور امانت کا خیال ضروری ہے۔
