صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۸ - امانت دار خازن کا اجر

امانت دار خازن: خوش دلی سے دینے والا بھی اجر پاتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُنْفِذُ ، وَرُبَّمَا قَالَ : يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبٌ بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ " .

ابوموسیٰ روایت:

«خازن» مسلمان امانتدار جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا وہ چیز پوری طرح دیتا ہے جس کا اسے سرمایہ کے مالک کی طرف سے حکم دیا گیا اور اس کا دل بھی اس سے خوش ہے اور اسی کو دیا ہے جسے دینے کے لیے مالک نے کہا تھا تو وہ دینے والا بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مسلمان امانت دار خازن کا ذکر فرمایا۔ وہ خازن جو مالک کے حکم کے مطابق چیز پوری طرح دیتا ہے، دل سے راضی ہوتا ہے، اور اسی شخص کو دیتا ہے جسے دینے کا حکم دیا گیا ہو، وہ بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔ اس حدیث میں امانت، حکم کی پابندی اور خوش دلی تینوں باتیں نمایاں ہیں۔ صرف مال کا مالک ہی نیکی میں شریک نہیں ہوتا، بلکہ وہ شخص بھی اجر پا سکتا ہے جو امانت داری سے مال پہنچاتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ کمی نہ کرے، اپنی طرف سے غلط جگہ نہ دے، اور دل تنگ کر کے نہیں بلکہ خوشی سے ادا کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امانت دار خازن بھی صدقہ کے اجر میں شریک ہو سکتا ہے۔
  • جو حکم دیا جائے اسے پورا اور مکمل ادا کرنا چاہیے۔
  • مال اسی شخص کو دیا جائے جس کے لیے مالک نے کہا ہو۔
  • نیکی کا کام خوش دلی سے کرنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں