صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۵ - بیوی کے صدقہ کا ثواب
بیوی کا صدقہ: گھر کے مال سے نیکی اور مشترک اجر
صحیح بخاری : ۱۴۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عورت اپنے شوہر کے مال سے کچھ خرچ کرے اور اس کی نیت شوہر کی پونجی برباد کرنے کی نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور شوہر کو بھی اس کا ثواب ملے گا اس نے کمایا ہے اور خزانچی کا بھی یہی حکم ہے۔ ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرتا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں گھر کے مال سے خرچ کرنے کا مسئلہ بہت آسان انداز میں بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر کے مال سے کچھ خرچ کرے اور اس کی نیت مال کو برباد کرنے کی نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملے گا۔ شوہر کو بھی ثواب ملے گا کیونکہ مال اس نے کمایا، اور خزانچی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ ایک کے ثواب سے دوسرے کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی میں تعاون کرنے والے سب لوگ اپنے اپنے حصے کے مطابق اجر پا سکتے ہیں۔ یہاں خاص شرط یہ ہے کہ خرچ بگاڑ، نقصان یا غلط ارادے کے ساتھ نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے مال سے درست نیت کے ساتھ خرچ کرنا اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
- شوہر کو کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے۔
- بیوی کو خرچ کرنے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے۔
- نیکی میں شریک لوگوں کا اجر ایک دوسرے سے کم نہیں کیا جاتا۔
