صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۹ - شوہر کے گھر سے صدقہ
شوہر کے گھر سے صدقہ: گھریلو مال میں نیت اور امانت
صحیح بخاری : ۱۴۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۹
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا .
عائشہ روایت:
جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر (کے مال) سے صدقہ کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت مختصر الفاظ میں اس مضمون کو بیان کرتی ہے کہ جب عورت اپنے شوہر کے گھر کے مال سے صدقہ کرے۔ اسی باب کی دوسری روایات کے مطابق یہ مضمون اس شرط کے ساتھ سمجھا جاتا ہے کہ خرچ بگاڑ یا نقصان کی نیت سے نہ ہو۔ اس لیے اس حدیث کا مرکزی سبق گھر کے مال، صدقہ اور نیت سے متعلق ہے۔ گھر کے اندر موجود کھانا یا مال بھی خیر کے کام میں لگ سکتا ہے، مگر اس میں امانت کا خیال ضروری ہے۔ بیوی اگر اچھے ارادے سے، گھر کو نقصان پہنچائے بغیر صدقہ کرے تو یہ نیکی کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ روایت گھر کے ماحول میں تعاون، خیرات اور درست نیت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے مال سے صدقہ کرتے وقت نیت درست ہونی چاہیے۔
- خیر کے کام میں گھریلو سطح پر بھی حصہ لیا جا سکتا ہے۔
- مال کو نقصان پہنچانے کی نیت سے خرچ کرنا درست نہیں۔
- اسی باب کی روایات گھریلو صدقہ کے اجر کو واضح کرتی ہیں۔
