صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۶ - اسلام سے پہلے کی نیکیاں
اسلام سے پہلے کی نیکیاں: صدقہ، آزادی اور صلہ رحمی
صحیح بخاری : ۱۴۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۳۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ ، فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ " .
حکیم بن حزام روایت:
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صدقہ ‘ غلام آزاد کرنے اور صلہ رحمی کی صورت میں کیا کرتا تھا۔ کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ان تمام نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے گزر چکی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ وہ جاہلیت کے زمانے میں صدقہ، غلام آزاد کرنے اور صلہ رحمی جیسے نیک کام کیا کرتے تھے، کیا ان میں ان کے لیے اجر ہے؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ان تمام نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے گزر چکی ہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نیکی کی قدر اللہ کے ہاں ہے، اور جب انسان اسلام قبول کرتا ہے تو اس کی سابقہ بھلائیوں کا ذکر خیر کے طور پر آیا۔ یہاں خاص طور پر تین اعمال کا ذکر ہے: صدقہ، غلام آزاد کرنا، اور رشتہ داروں سے اچھا تعلق۔ اس لیے اس حدیث سے نیکی، صلہ رحمی اور صدقہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ، غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی نیک کام ہیں۔
- حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو ان سابقہ بھلائیوں کے ساتھ اسلام لانے کی بشارت دی گئی۔
- نیکی کے سوال میں صحابہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے رہنمائی لیتے تھے۔
- اسلام انسان کو خیر کے کاموں کی قدر سکھاتا ہے۔
