صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۵ - گھر کے کھانے سے خرچ کرنے کا اجر
گھر کے کھانے سے صدقہ: نیت خراب نہ ہو تو اجر ہے
صحیح بخاری : ۲۰۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کا کھانا (غلہ وغیرہ) بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں گھر کے کھانے سے خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کا ایک متوازن اصول بیان ہوا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے گھر کے کھانے میں سے خرچ کرے، بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو، تو اسے اس خرچ کا اجر ملتا ہے۔ شوہر کو کمانے کا اجر ملتا ہے اور خزانچی کو بھی ایسا ہی اجر ملتا ہے۔ ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔ اس سے گھر کے اندر خیر کے کام میں نیت، ذمہ داری اور تعاون کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حدیث خرچ کی اجازت کو بے قاعدگی نہیں بناتی، بلکہ صاف کہتی ہے کہ بگاڑ کی نیت نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے مال سے خرچ کرتے وقت نیت درست ہونی چاہیے۔
- بگاڑ کی نیت کے بغیر خرچ کرنے پر اجر ملتا ہے۔
- شوہر، بیوی اور خزانچی کو اپنے اپنے عمل کے مطابق اجر ملتا ہے۔
- کسی ایک کا اجر دوسرے کے اجر کو کم نہیں کرتا۔
