صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۴ - تجارت کے وقت نماز جمعہ کو نہ چھوڑیں

نماز جمعہ اور تجارت: خطبہ چھوڑ کر قافلے کی طرف جانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۴

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَقْبَلَتْ عِيرٌ ، وَنَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " .

جابر روایت:

تجارتی) اونٹوں (کا قافلہ) آیا۔ ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ (کے خطبہ) میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی تمام حضرات ادھر چلے گئے اس پر یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نماز جمعہ، خطبہ جمعہ اور تجارت کے تعلق سے ایک اہم واقعہ ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک تجارتی قافلہ آیا جبکہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی لوگ قافلے کی طرف چلے گئے۔ اس پر قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ جب وہ تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے: کاروبار، خرید و فروخت اور دنیاوی فائدہ اہم ہو سکتا ہے، مگر جمعہ کی نماز اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو چھوڑ کر تجارت کی طرف بھاگنا درست رویہ نہیں۔ عبادت کے وقت عبادت کو ترجیح دی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جمعہ کے وقت تجارت کو نماز پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
  • خطبہ جمعہ کے دوران توجہ عبادت پر رہنی چاہیے۔
  • دنیاوی فائدہ دینی فریضے سے بڑا نہیں۔
  • قرآن نے اس واقعہ کے ذریعے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں