صحیح بخاری حدیث ۲۰۵۸ - جمعہ کے خطبے میں تجارت کی طرف جانا
جمعہ اور تجارت: خطبہ چھوڑ کر قافلے کی طرف جانے کا واقعہ
صحیح بخاری : ۲۰۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۵۸
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَقْبَلَتْ مِنْ الشَّأْمِ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا ، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ :وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 .
جابر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔ (یعنی خطبہ سن رہے تھے) کہ ملک شام سے کچھ اونٹ کھانے کا سامان تجارت لے کر آئے۔ (سب نمازی) لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها» ”جب وہ مال تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۰۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز، یعنی خطبہ، میں تھے۔ اسی دوران شام سے کھانے کا سامان لے کر ایک تجارتی قافلہ آیا۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ اس پر سورہ جمعہ کی آیت نازل ہوئی کہ جب وہ تجارت یا کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ حدیث جمعہ، خطبہ، تجارت، اور دینی توجہ کے بارے میں ہے۔ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت کے وقت دنیاوی فائدے کی طرف بے توجہی سے دوڑنا مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے خطبے کے وقت دینی توجہ ضروری ہے۔
- تجارتی قافلے کی وجہ سے بہت سے لوگ متوجہ ہو گئے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ آدمی باقی رہے۔
- سورہ جمعہ کی آیت اسی واقعے پر نازل ہوئی۔
