صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۸ - عبدالرحمٰن بن عوف کی تجارت
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ: تجارت، خودداری اور ولیمہ
صحیح بخاری : ۲۰۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۴۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ : إِنِّي أَكْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا ، فَأَقْسِمُ لَكَ نِصْفَ مَالِي ، وَانْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ هَوِيتَ ، نَزَلْتُ لَكَ عَنْهَا ، فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ، هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ ؟ قَالَ : سُوقُ قَيْنُقَاعٍ ، قَالَ : فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَتَى بِأَقِطٍ وَسَمْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ ، فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمَنْ قَالَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ؟ قَالَ : كَمْ سُقْتَ ؟ قَالَ : زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
عبدالرحمٰن بن عوف روایت:
جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع انصاری کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں انصار کے سب سے زیادہ مالدار لوگوں میں سے ہوں۔ اس لیے اپنا آدھا مال میں آپ کو دیتا ہوں اور آپ خود دیکھ لیں کہ میری دو بیویوں میں سے آپ کو کون زیادہ پسند ہے۔ میں آپ کے لیے انہیں اپنے سے الگ کر دوں گا (یعنی طلاق دے دوں گا) جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو آپ ان سے نکاح کر لیں۔ بیان کیا کہ اس پر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ کیا یہاں کوئی بازار ہے جہاں کاروبار ہوتا ہو؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ”سوق قینقاع“ کا نام لیا۔ بیان کیا کہ جب صبح ہوئی تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ پنیر اور گھی لائے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ تجارت کے لیے بازار آنے جانے لگے۔کچھ دنوں کے بعد ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زرد رنگ کا نشان (کپڑے یا جسم پر) تھا۔ رسول اللہ نے دریافت فرمایا کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس سے؟ بولے کہ ایک انصاری خاتون سے۔ دریافت فرمایا اور مہر کتنا دیا ہے؟ عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے یا (یہ کہا کہ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تو ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۴۸ کا خلاصہ
یہ حدیث مدینہ میں بھائی چارے، سخاوت، تجارت اور نکاح کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اپنا آدھا مال دینے کی پیشکش کی، بلکہ اپنی بیویوں کے بارے میں بھی بات کی۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، کیا یہاں کوئی بازار ہے جہاں تجارت ہوتی ہو؟ پھر وہ سوق قینقاع گئے، پنیر اور گھی لائے، اور تجارت کرتے رہے۔ کچھ دن بعد شادی کی خبر ہوئی، مہر بتایا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔ یہ حدیث حلال تجارت، خودداری، بھائی چارہ، نکاح اور ولیمہ کی خوبصورت تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعد رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور بھائی چارہ بہت نمایاں ہے۔
- عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے خود محنت اور تجارت کو پسند کیا۔
- نکاح میں مہر کا ذکر کیا گیا۔
- ولیمہ کرنے کی ترغیب دی گئی، چاہے سادہ ہی ہو۔
