صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۷ - ولیمہ، مہر اور برکت کی دعا
ولیمہ کی حدیث: نکاح کے بعد سادہ دعوت اور برکت کی دعا
صحیح بخاری : ۵۱۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۶۷
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، كَمْ أَصْدَقْتَهَا ؟ قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ " . وَعَنْ حُمَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ : لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ نَزَلَ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ : أُقَاسِمُكَ مَالِي وَأَنْزِلُ لَكَ عَنْ إِحْدَى امْرَأَتَيَّ ، قَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، فَخَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَ وَاشْتَرَى فَأَصَابَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَتَزَوَّجَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے قبیلہ انصار کی ایک عورت سے شادی کی تھی کہ مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ اور حمید سے روایت ہے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ جب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ) مدینہ ہجرت کر کے آئے تو مہاجرین نے انصار کے یہاں قیام کیا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں آپ کو اپنا مال تقسیم کر دوں گا اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو آپ کے لیے چھوڑ دوں گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے پھر وہ بازار نکل گئے اور وہاں تجارت شروع کی اور پنیر اور گھی نفع میں کمایا۔ اس کے بعد شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث نکاح، مہر، رزق اور ولیمہ کے بارے میں آسان رہنمائی دیتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے بڑی محبت سے اپنا مال تقسیم کرنے اور ایک بیوی چھوڑنے کی پیشکش کی۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے جواب میں دعا دی کہ اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے، پھر بازار جا کر تجارت شروع کی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کی محنت سے نفع کمایا، پھر نکاح کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان سے مہر کے بارے میں پوچھا، اور پھر فرمایا کہ ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی ہو۔ اس حدیث میں ولیمہ کی حدیث، مہر کی حدیث، اور نکاح میں سادگی کا خوبصورت سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے بعد مہر کا ذکر اور اس کی ادائیگی اہم ہے۔
- اپنی محنت سے روزی کمانا پسندیدہ طرز عمل ہے۔
- ولیمہ سادہ ہو سکتا ہے، تکلف ضروری نہیں۔
- کسی کے احسان پر اس کے لیے برکت کی دعا دینا اچھا عمل ہے۔
