صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۶ - نکاح کے بعد ولیمہ کی سنت
ولیمہ کی حدیث: نکاح کے بعد برکت اور سادگی
صحیح بخاری : ۶۳۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۸۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ : " مَهْيَمْ أَوْ مَهْ " ، قَالَ : قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
حماد بن زید روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا اثر دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونے پر شادی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے، ولیمہ کر، چاہے ایک بکری کا ہی ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۶ کا خلاصہ
یہ حدیث نکاح کے بعد ولیمہ کی سنت کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا اثر دیکھا تو وجہ پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا نکاح ہوا ہے اور مہر سونے کی ایک گٹھلی کے برابر رکھا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر ولیمہ کرنے کا حکم دیا، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی میں اصل چیز نکاح، دعا اور برکت ہے، نہ کہ دکھاوا۔ ولیمہ حسب استطاعت ہو، مگر نکاح کی خوشی کو جائز طریقے سے ظاہر کرنا پسندیدہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے موقع پر خیر و برکت کی دعا دینا اچھا عمل ہے۔
- ولیمہ نکاح کے بعد خوشی ظاہر کرنے کا مسنون طریقہ ہے۔
- ولیمہ اپنی طاقت کے مطابق ہونا چاہیے، تکلف ضروری نہیں۔
- شادی میں سادگی اور برکت کو نمایاں رکھنا چاہیے۔
