حدیث ۶۳۸۷

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۸۷

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ ، أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، أَوْ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ " ، قُلْتُ : هَلَكَ أَبِي ، فَتَرَكَ سَبْعَ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " فَبَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ " ، لَمْ يَقُلْ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرٍو : بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ .

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ` میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں (راوی کو تعداد میں شبہ تھا) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیاہی سے۔ فرمایا، کسی لڑکی (کنواری) سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی، میرے والد (عبداللہ) شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چنانچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں ”اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے“ کے الفاظ نہیں کہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں