صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۸ - بیوی کے پاس جانے کی دعا
بیوی کے پاس جانے کی دعا: شیطان سے حفاظت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۳۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۸۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ ، قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو کچھ تو ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔“ تو اگر اس صحبت سے کوئی اولاد مقدر میں ہو گی تو شیطان اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث ازدواجی زندگی کے ایک خاص موقع کی دعا سکھاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو اللہ کے نام سے شروع کرے اور یہ دعا پڑھے کہ اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو کچھ تو ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ حدیث میں یہ بھی بیان ہوا کہ اگر اس تعلق سے اولاد مقدر ہو تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی نجی زندگی بھی اللہ کے ذکر سے خالی نہیں ہونی چاہیے۔ بیوی کے پاس جانے کی دعا، اولاد کی حفاظت کی دعا اور بسم اللہ کہنا اس حدیث کا اصل پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازدواجی تعلق سے پہلے اللہ کا نام لینا سکھایا گیا ہے۔
- اولاد کے لیے شیطان سے حفاظت کی دعا کرنا چاہیے۔
- مسلمان کی نجی زندگی میں بھی دعا اور ذکر کی جگہ ہے۔
- ہر نعمت کو اللہ کی عطا سمجھ کر اس کی حفاظت مانگنی چاہیے۔
