صحیح بخاری حدیث ۵۰۶۶ - نوجوانوں کے لیے نکاح اور روزہ
نکاح کی حدیث: نوجوانوں کے لیے پاکیزہ راستہ
صحیح بخاری : ۵۰۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۶۶
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ والْأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
عبدالرحمٰن بن یزید روایت:
میں علقمہ اور اسود (رحمہم اللہ) کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو بہت صاف اور آسان ہدایت دی۔ جس کے پاس نکاح کی مالی طاقت ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیے۔ وجہ بھی بتا دی گئی کہ نکاح نظر کو نیچا رکھنے میں مدد دیتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ بات خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ہے، کیونکہ اس عمر میں خواہشات زیادہ زور پکڑ سکتی ہیں۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو شخص غربت یا کسی اور وجہ سے نکاح کی طاقت نہیں رکھتا، وہ روزہ رکھے۔ روزہ خواہش کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو قابو میں رہنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے نکاح کی حدیث، نوجوانوں کی اصلاح، نظر کی حفاظت، روزہ اور پاکدامنی جیسے موضوعات کو ایک ساتھ سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح استطاعت رکھنے والے نوجوان کے لیے پاکیزہ اور محفوظ راستہ ہے۔
- نکاح نظر نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت میں مدد دیتا ہے۔
- جو نکاح کی طاقت نہ رکھے، وہ روزہ کے ذریعے اپنی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرے۔
- اسلام نوجوانوں کی فطری ضرورت کو نظر انداز نہیں کرتا بلکہ جائز راستہ بتاتا ہے۔
