صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۶ - ابوہریرہؓ کا سوال اور تقدیر
تقدیر کی حدیث: نکاح کی استطاعت نہ ہو تو کیا سوچنا چاہیے
صحیح بخاری : ۵۰۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۷۶
وَقَالَ أَصْبَغُ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ ، وَأَنَا أَخَافُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ ، وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ النِّسَاءَ ، فَسَكَتَ عَنِّي ، ثُمَّ قُلْتُ : مِثْلَ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ، ثُمَّ قُلْتُ : مِثْلَ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ، ثُمَّ قُلْتُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ ذَرْ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے چوتھی مرتبہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! جو کچھ تم کرو گے اسے (لوح محفوظ میں) لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی حالت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوان ہوں، مجھے اپنے بارے میں زنا کا خوف ہے، اور میرے پاس اتنا مال نہیں کہ کسی عورت سے شادی کر سکوں۔ انہوں نے یہ بات کئی بار عرض کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خاموش رہے، پھر فرمایا کہ اے ابوہریرہ، جو کچھ تمہیں پیش آنا ہے، اس کے بارے میں قلم خشک ہو چکا ہے، اب تم خصی ہو جاؤ یا چھوڑ دو۔ ترجمہ میں اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا کہ خصی ہونا بے فائدہ ہے۔ اس حدیث میں نوجوانی، نکاح کی استطاعت، زنا کا خوف، تقدیر اور خود کو نقصان پہنچانے سے بچنے کا پہلو آتا ہے۔ اسے اسی متن کی حد میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام اپنی ذاتی پریشانی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتے تھے۔
- نکاح کی استطاعت نہ ہو تو انسان کو غلط راستے سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔
- حدیث میں تقدیر کا ذکر واضح الفاظ میں آیا ہے۔
- ترجمہ کے مطابق خود کو خصی کرنا بے فائدہ عمل بتایا گیا۔
