صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۷ - عائشہؓ کا کنواری ہونے کا ذکر
حضرت عائشہؓ کی حدیث: کنواری سے نکاح کا ذکر
صحیح بخاری : ۵۰۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۷۷
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ نَزَلْتَ وَادِيًا وَفِيهِ شَجَرَةٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا ، وَوَجَدْتَ شَجَرًا لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا ، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تُرْتِعُ بَعِيرَكَ ؟ قَالَ : فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ مِنْهَا ، تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا " .
عائشہ روایت:
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوں میں سے کس درخت میں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرایا نہیں گیا ہو۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مثال کے ذریعے بات کی۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر آپ کسی وادی میں اتریں، وہاں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر چکے ہوں، اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ نہ کھایا گیا ہو، تو آپ اپنا اونٹ کہاں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں چرایا نہ گیا ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ اس روایت میں حضرت عائشہ کی خاص نسبت، نکاح، کنواری بیوی، اور ازواج مطہرات کے ادب کا پہلو ہے۔ بات کو اسی مثال اور اسی اشارے تک محدود رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات مثال کے ذریعے بیان کی۔
- روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاص نسبت کا ذکر ہے۔
- ازواج مطہرات کے متعلق گفتگو میں ادب اور احتیاط ضروری ہے۔
- حدیث کے اشارے کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں بیان ہوا ہے۔
