صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۱ - دینی بھائی چارہ اور نکاح
دینی اخوت کی حدیث: بھائی چارہ اور نکاح کا فرق
صحیح بخاری : ۵۰۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّمَا أَنَا أَخُوكَ ، فَقَالَ : أَنْتَ أَخِي فِي دِينِ اللَّهِ وَكِتَابِهِ وَهِيَ لِي حَلَالٌ " .
عروہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے لیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ (تو عائشہ سے کیسے نکاح کریں گے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ میرے لیے حلال ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بات کی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر ایمان کے رشتہ سے میرے بھائی ہو، اور عائشہ میرے لیے حلال ہے۔ اس روایت میں دینی اخوت اور نسبی یا رضاعی رشتوں کا فرق سمجھ آتا ہے، مگر صرف اسی حد تک جس قدر حدیث میں بیان ہوا ہے۔ یہاں اصل موضوع یہ ہے کہ ایمان کا بھائی چارہ عزت والا رشتہ ہے، لیکن وہ نکاح کے حلال ہونے میں وہ رکاوٹ نہیں جو خاص شرعی رشتوں سے بنتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی بنیاد پر دینی بھائی چارہ ایک معزز رشتہ ہے۔
- ہر قسم کا بھائی چارہ نکاح کی حرمت کا سبب نہیں بنتا۔
- حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ پوچھ کر وضاحت حاصل کی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر اور واضح جواب دیا۔
