صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۲ - بہترین عورت کی صفات

بہترین عورت کی حدیث: بچے سے محبت اور شوہر کے مال کی حفاظت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۲

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ پر سوار ہونے والی (عرب) عورتوں میں بہترین عورت قریش کی صالح عورت ہوتی ہے جو اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال اسباب میں اس کی بہت عمدہ نگہبان و نگراں ثابت ہوتی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب عورتوں میں قریش کی صالح عورتوں کی تعریف فرمائی۔ دو صفات خاص طور پر بیان ہوئیں: وہ چھوٹے بچے پر بہت مہربان ہوتی ہیں، اور شوہر کے مال و اسباب کی اچھی نگہبان ہوتی ہیں۔ اس حدیث میں عورت کی خوبی کو گھر کے دو اہم پہلوؤں سے جوڑا گیا ہے: بچے کی پرورش میں شفقت، اور گھر کے مال میں امانت داری۔ اسے عام انداز میں سمجھیں تو صالح عورت کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خاندان میں محبت، ذمہ داری اور حفاظت بہت اہم چیزیں ہیں۔ حدیث کے الفاظ قریش کی صالح عورتوں کے بارے میں ہیں، اس لیے بات کو اسی دائرے میں رکھنا چاہیے اور کسی دوسرے گروہ کے بارے میں غیر ضروری نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں بچے کے ساتھ نرمی اور محبت کو اچھی صفت بتایا گیا۔
  • شوہر کے مال کی حفاظت اور نگہبانی کو قابل تعریف عمل کہا گیا۔
  • صالح عورت کی خوبی گھر کے عملی معاملات میں ظاہر ہوتی ہے۔
  • حدیث خاص طور پر قریش کی صالح عورتوں کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں