صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۳ - تعلیم، آزادی اور نکاح کا اجر
تعلیم اور آزادی کی حدیث: اچھا سکھانا، آزاد کرنا اور نکاح
صحیح بخاری : ۵۰۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۳
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ وَلِيدَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ مَوَالِيهِ وَحَقَّ رَبِّهِ فَلَهُ أَجْرَانِ " ، قَالَ الشَّعْبِيُّ : خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ قَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتَقَهَا ثُمَّ أَصْدَقَهَا " .
ابوبردہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے تعلیم دے اور خوب اچھی طرح دے، اسے ادب سکھائے اور پوری کوشش اور محنت کے ساتھ سکھائے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور اہل کتاب میں سے جو شخص بھی اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور مجھ پر ایمان لائے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اسے دہرا ثواب ملتا ہے۔عامر شعبی نے (اپنے شاگرد سے اس حدیث کو سنانے کے بعد کہا کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے اسے سیکھ لو۔ اس سے پہلے طالب علموں کو اس حدیث سے کم کے لیے بھی مدینہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر نے بیان کیا ابوحصین سے، اس نے ابوبردہ سے، اس نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس شخص نے باندی کو (نکاح کرنے کے لیے) آزاد کر دیا اور یہی آزادی اس کا مہر مقرر کی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے لوگوں کے لیے دوہرے اجر کا ذکر فرمایا۔ پہلی صورت یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس لونڈی ہو، وہ اسے اچھی تعلیم دے، ادب سکھائے، پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے، تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔ دوسری صورت اہل کتاب کے اس شخص کی ہے جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا ہو اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ تیسری صورت اس غلام کی ہے جو اپنے آقا کے حقوق بھی ادا کرے اور اپنے رب کے حقوق بھی ادا کرے۔ اس حدیث میں تعلیم، ادب، آزادی، نکاح، حقوق اور اجر کے موضوعات ایک ساتھ آئے ہیں۔ آخر میں یہ بھی ذکر ہے کہ آزادی کو مہر مقرر کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تعلیم اور ادب سکھانے کو حدیث میں بہت اہم عمل کے طور پر بیان کیا گیا۔
- لونڈی کو آزاد کر کے نکاح کرنے پر دوہرے اجر کا ذکر ہے۔
- حقوق ادا کرنا، چاہے آقا کے ہوں یا رب کے، حدیث میں قابل قدر عمل ہے۔
- روایت میں آزادی کو مہر مقرر کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
