صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۵ - صفیہؓ کا ولیمہ اور پردہ
صفیہؓ کے ولیمہ کی حدیث: سادگی اور پردہ کا اہتمام
صحیح بخاری : ۵۰۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ ، أُمِرَ بِالْأَنْطَاعِ ، فَأَلْقَى فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ ، فَقَالَ : الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَقَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن قیام کیا اور ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی۔ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ اس ولیمہ میں نہ روٹی تھی نہ گوشت، بلکہ دستر خوان پر کھجور، پنیر اور گھی رکھا گیا۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے آپس میں بات کی کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ پھر جب کوچ کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سواری پر جگہ بنائی اور پردہ ڈال دیا۔ اس سے ولیمہ کی سادگی اور پردہ کے اہتمام کا ذکر سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ سادہ کھانے سے بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ اس روایت میں ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کا اہتمام فرمایا۔
- صحابہ کرام نے پردہ کے اہتمام سے ان کے مقام کو سمجھا۔
- شادی اور ولیمہ میں تکلف کے بجائے سادگی کا پہلو اس حدیث میں نمایاں ہے۔
