صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۶ - آزادی کو مہر بنانے کی حدیث

آزادی بطور مہر: نکاح میں مہر کی ایک خاص صورت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۶

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع نکاح اور مہر ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور اسی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ عام طور پر مہر مال، رقم یا کوئی مقرر چیز ہوتی ہے، لیکن اس روایت میں ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے کہ آزادی ہی مہر بنی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نکاح میں مہر کی اصل حیثیت ایک حق کی ہے، جسے واضح کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث آزادی کو مہر بنانے کی حدیث کے طور پر تلاش کی جاتی ہے۔ اس میں صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے نکاح کے معاملے میں ایک جائز صورت سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح میں مہر عورت کا حق ہے اور اسے واضح ہونا چاہیے۔
  • اس روایت میں آزادی کو مہر قرار دینے کی خاص صورت بیان ہوئی ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور اسی کو مہر بنایا۔
  • حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر صرف نقد مال تک محدود نہیں رہتا، اگر شرعی طور پر درست صورت ہو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں