صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۷ - قرآن کے بدلے نکاح کی حدیث
قرآن کے بدلے نکاح: مہر کی آسانی اور نکاح کی سادگی
صحیح بخاری : ۵۰۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا ، فَقَالَ : وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ، قَالَ سَهْلٌ : مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا ، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا ، فَقَالَ : تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس (مہر کے لیے) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے کچھ نہیں پایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں البتہ میرے پاس ایک تہمد ہے۔ انہیں (خاتون کو) اس میں سے آدھا دے دیجئیے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جا رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ انہوں نے گن کر بتائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ۔ میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نکاح اور مہر ہے۔ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے آپ کو آپ کے لیے پیش کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ اگر آپ کو ضرورت نہیں تو ان سے میرا نکاح کر دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مہر کے لیے کوئی چیز پوچھी۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آؤ، مگر وہ بھی نہ ملی۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ قرآن کتنا یاد ہے۔ جب انہوں نے چند سورتیں گنائیں تو آپ نے ان سورتوں کے بدلے نکاح کر دیا۔ یہ حدیث نکاح میں آسانی، مہر کی اہمیت، اور قرآن کی قدر کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کا ذکر اور تعین ضروری معاملہ ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کے لیے بہت تھوڑی چیز، حتیٰ کہ لوہے کی انگوٹھی کا بھی ذکر فرمایا۔
- اس روایت میں قرآن یاد ہونے کو نکاح کے مہر کی خاص صورت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- نکاح کے معاملات میں سادگی اور آسانی کی ایک واضح مثال ملتی ہے۔
