صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۵ - نماز وسطیٰ نماز عصر ہے

نماز وسطیٰ یعنی نماز عصر: واضح حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۲۵

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا ، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .

سیدنا علی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: ”ان کافروں نے ہم کو نماز وسطیٰ نماز عصر سے باز رکھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کے بیچ میں عصر کی نماز کو پڑھا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۵ کا خلاصہ

اس روایت میں بات اور زیادہ صاف ہو جاتی ہے کہ نماز وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کافروں نے ہمیں نماز وسطیٰ، یعنی نماز عصر سے باز رکھا۔ پھر متن میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے بیچ میں پڑھی۔ اس سے عام قاری کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جب نماز کسی شدید رکاوٹ کی وجہ سے رہ جائے تو اسے چھوڑا نہیں گیا، بلکہ بعد میں ادا کیا گیا۔ یہ روایت نماز عصر کی فضیلت، نماز وقت پر پڑھنے کی فکر اور صلوٰۃ وسطیٰ کے مطلب کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ ہمیں اس سے یہی لینا چاہیے کہ نماز خاص طور پر عصر کی حفاظت دل سے کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں نماز وسطیٰ کی وضاحت نماز عصر سے کی گئی ہے۔
  • شدید رکاوٹ کے بعد بھی نماز کو ادا کیا گیا۔
  • نماز عصر کے وقت کی حفاظت خاص توجہ چاہتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں