صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۵ - مہر میں سادگی اور قرآن کی تعلیم

مہر میں لوہے کی انگوٹھی اور قرآن کی سورتوں والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۳۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي وَهَبْتُ مِنْ نَفْسِي فَقَامَتْ طَوِيلًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ ، قَالَ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا ؟ قَالَ : مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي ، فَقَالَ : إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : مَا أَجِدُ شَيْئًا ، فَقَالَ : الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَلَمْ يَجِدْ ، فَقَالَ : أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا ، فَقَالَ : قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .

سہل بن سعد ساعدی روایت:

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس پہننے کے لیے تہمد بھی نہیں رہے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کر لو۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی! اسے وہ بھی نہیں ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فلاں فلاں سورتیں ہیں، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ وہ دیر تک کھڑی رہیں۔ ایک مرد نے عرض کیا کہ اگر آپ کو ضرورت نہ ہو تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کے بارے میں پوچھا کہ تمہارے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس صرف تہمد ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم یہ دے دو گے تو تمہارے پاس پہننے کو بھی نہ رہے گا۔ پھر آپ نے لوہے کی انگوٹھی تک تلاش کرنے کو فرمایا۔ جب وہ بھی نہ ملی تو پوچھا کہ کیا قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟ اس نے چند سورتوں کا نام لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی بنیاد پر نکاح کر دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مہر کے لیے استطاعت کے مطابق کوشش کرنا چاہیے۔
  • نکاح میں غیر ضروری مشکل نہیں رکھی گئی۔
  • قرآن کی سورتیں یاد ہونا ایک قابل قدر نعمت ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کی حالت کو دیکھ کر آسانی فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں