صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۲ - قرآن کے بدلے نکاح
قرآن یاد ہونے پر نکاح کی حدیث اور مہر کا مسئلہ
صحیح بخاری : ۵۱۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۳۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ ، فَلَمْ يُرِدْهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَعِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ . قَالَ : وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ؟ قَالَ : وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ ، وَآخُذُ النِّصْفَ ، قَالَ : لَا ، هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
سہل بن سعد روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر نیچی اوپر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا مگر اپنے لیے قبول نہ فرمایا۔ ایک صحابی نے درخواست کی کہ ان کا نکاح مجھ سے کرا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں۔ پھر لوہے کی انگوٹھی کا پوچھا گیا، وہ بھی نہ تھی۔ صحابی نے اپنی چادر کا آدھا حصہ دینے کی بات کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس قرآن میں سے کچھ ہے؟ انہوں نے ہاں کہا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارا نکاح اس قرآن کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے۔ یہ حدیث نکاح میں مہر اور قرآن کی قدر دونوں کو صاف بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کے لیے کچھ نہ کچھ تلاش کرنا چاہیے۔
- دین نے نکاح کو مشکل رسموں کا پابند نہیں بنایا۔
- قرآن یاد ہونا اور اسے سکھانا بڑی قدر کی چیز ہے۔
- نکاح کے فیصلے میں سنجیدگی، سادگی اور ذمہ داری ہونی چاہیے۔
