صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۰ - کنواری سے نکاح کا ذکر

کنواری سے نکاح کی حدیث: میاں بیوی کی خوش مزاجی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۰

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَارِبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : تَزَوَّجْتُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَزَوَّجْتَ ؟ فَقُلْتُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، فَقَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کود کرتے۔محارب نے کہا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینار سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ مجھ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے شادی کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کس سے شادی کی؟ انہوں نے بتایا کہ ایک ثیبہ، یعنی پہلے سے شادی شدہ عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ روایت کے دوسرے بیان میں بھی یہی مفہوم آیا ہے۔ اس حدیث میں اصل بات زوجین کے تعلق میں خوشی، نرمی اور باہمی انس کا ذکر ہے۔ یہ کوئی سخت حکم نہیں بلکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو ہے۔ اس میں شادی کی حدیث، کنواری سے نکاح، زوجین کی محبت اور گھر کے سکون جیسے سرچ الفاظ فطری طور پر آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے شادی کے بارے میں نرمی سے سوال کیا۔
  • زوجین کے درمیان خوش مزاجی اور باہمی کھیل کود کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • روایت خاص موقع کی گفتگو ہے، اسے غیر ضروری سختی کے ساتھ نہ سمجھا جائے۔
  • شادی میں باہمی انس اور دل جوئی کا پہلو اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں