صحیح بخاری حدیث ۲۰۵۷ - گوشت پر بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ

گوشت پر بسم اللہ کی حدیث: جب ذبح کا حال معلوم نہ ہو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۵۷

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ قَوْمًا قَالُوا : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ ، لَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ " .

عائشہ روایت:

کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بہت سے لوگ ہمارے یہاں گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ کا نام انہوں نے ذبح کے وقت لیا تھا یا نہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بسم اللہ پڑھ کے اسے کھا لیا کرو۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہمارے پاس کچھ لوگ گوشت لاتے ہیں، ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر بسم اللہ پڑھو اور کھا لو۔ اس حدیث کا موضوع گوشت، بسم اللہ، اور شک کی ایک خاص صورت ہے۔ یہاں سوال لائے ہوئے گوشت کے بارے میں تھا، اور جواب یہ دیا گیا کہ کھانے والے خود بسم اللہ پڑھ کر کھائیں۔ اس حدیث کو عام طور پر بسم اللہ پڑھ کر گوشت کھانے کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ متن میں موجود بات سے یہی سمجھ آتا ہے کہ ہر شک کو ایک ہی حکم میں نہیں ڈالا جائے گا؛ سوال کی نوعیت دیکھی جائے گی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گوشت کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی ہدایت دی گئی۔
  • سوال ذبح کے وقت نام لینے کے علم نہ ہونے سے متعلق تھا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے والوں کو بسم اللہ پڑھنے کو فرمایا۔
  • دینی سوال میں اصل صورت واضح کرنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں