صحیح بخاری حدیث ۲۰۵۵ - صدقہ کے شبہ سے بچنا
صدقہ کے شبہ کی حدیث: گری ہوئی کھجور نہ کھانے کا سبب
صحیح بخاری : ۲۰۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۵۵
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ لَأَكَلْتُهَا " ، وَقَالَ هَمَّامٌ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَجِدُ تَمْرَةً سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور پر گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ اور ہمام بن منبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اپنے بستر پر پڑی ہوئی ایک کھجور پاتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی بستر پر پڑی کھجور کا ذکر آیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق مشتبہ چیز سے بچنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کا مال لینا مناسب نہیں تھا، اس لیے محض شبہ کی وجہ سے احتیاط فرمائی۔ یہ حدیث حلال حرام، صدقہ، اور مشتبہ کھانے کے بارے میں ایک نرم مگر واضح عملی نمونہ دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشتبہ چیز میں احتیاط کا عملی نمونہ بیان ہوا۔
- صدقہ ہونے کے شبہ کی وجہ سے کھجور نہ کھائی گئی۔
- معمولی چیز میں بھی دینی احتیاط کا خیال رکھا گیا۔
- حلال و حرام کے معاملے میں بے پرواہی نہیں کرنی چاہیے۔
