صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۳ - بنی اسرائیل کے شخص کا سمندری سفر

بنی اسرائیل کے شخص کا واقعہ: امانت اور سفر کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۳

وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ ذَكَرَ " رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجَ إِلَى الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ . حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، بِهَذَا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ جس نے سمندر کا سفر کیا تھا اور اپنی ضرورت پوری کی تھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۳ کا خلاصہ

اس روایت میں متن مختصر انداز میں آیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا، جو سمندر کی طرف سفر پر نکلا اور اپنی ضرورت پوری کی۔ یہاں پوری حدیث کی طرف اشارہ ہے، مگر فراہم کردہ متن میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے اس مقام پر ہمیں صرف اتنی ہی بات سمجھنی چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پچھلی امتوں کے واقعات بھی بیان فرماتے تھے تاکہ لوگ سبق حاصل کریں۔ بنی اسرائیل کا واقعہ، سمندری سفر، اور ضرورت پوری کرنے کا ذکر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حدیث کے متن کو جتنا ملے اتنا ہی بیان کیا جائے، اس میں اپنی طرف سے تفصیل نہ بڑھائی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث کے متن میں جتنی بات آئے، اسی حد تک بات کرنی چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے واقعات بھی بیان فرمائے۔
  • سفر اور ضرورت کے معاملات میں بھی دینی سبق ہو سکتا ہے۔
  • مختصر روایت کی تشریح میں غیر ثابت تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں