صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۲ - تین بار اجازت مانگنے کا ادب

اجازت مانگنے کی حدیث: تین بار کے بعد واپس لوٹ جانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ : " أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا ، فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى فَفَرَغَ عُمَرُ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ ؟ قِيلَ : قَدْ رَجَعَ فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ، فَسَأَلَهُمْ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَخَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ " .

عبید بن عمیر روایت:

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہیں ملی۔ غالباً آپ اس وقت کام میں مشغول تھے۔ اس لیے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی۔ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ کہا گیا وہ لوٹ کر چلے گئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) تھا (کہ تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہئے) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا (کہ کیا کسی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے۔ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔ افسوس کہ مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا۔ آپ کی مراد تجارت سے تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں اجازت مانگنے کا ادب اور دینی بات کی تحقیق دونوں باتیں سامنے آتی ہیں۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی، اجازت نہ ملی تو وہ واپس چلے گئے۔ بعد میں عمر رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں یہی حکم دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات پر گواہ طلب کیا، تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے گواہی دی۔ اس واقعہ میں دو سادہ سبق ہیں: کسی کے گھر یا مجلس میں داخل ہونے کے لیے اجازت ضروری ہے، اور دینی حکم بیان کرتے وقت تحقیق بھی ضروری ہے۔ تجارت میں مصروفیت کی وجہ سے کوئی حکم پوشیدہ رہ سکتا ہے، اس لیے سیکھتے رہنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا ادب ہے۔
  • دینی بات سن کر اس کی تحقیق کرنا درست رویہ ہے۔
  • کم عمر شخص بھی حق بات کی گواہی دے سکتا ہے۔
  • کاروبار کی مصروفیت علم حاصل کرنے سے غافل نہ کرے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں