صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۱ - سونے چاندی کی تجارت کا شرعی اصول

سونے چاندی کی تجارت: ہاتھوں ہاتھ لین دین کا اصول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۱

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَا : كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ " .

ابوالمنہال روایت:

میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ (لین دین) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بیع صرف یعنی سونے چاندی کی تجارت ہے۔ ابو المنہال نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ، براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کے لین دین کے بارے میں پوچھا۔ دونوں صحابہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تاجر تھے اور انہوں نے یہی مسئلہ آپ سے پوچھا تھا۔ جواب صاف تھا کہ اگر لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن ادھار ہو تو جائز نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرنسی، سونا چاندی، اور بیع صرف جیسے معاملات میں تاخیر کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ تجارت میں نرمی اچھی ہے، مگر شرعی حد بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سونے چاندی کا تبادلہ ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے۔
  • ادھار کی صورت میں اس قسم کا لین دین درست نہیں بتایا گیا۔
  • تاجر کو اپنے کاروباری مسائل اہل علم سے پوچھنے چاہییں۔
  • صحابہ کرام تجارت کرتے تھے مگر حکم رسول کے پابند رہتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں