صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۰ - دو صاع کے بدلے ایک صاع کا حکم

دو صاع ایک صاع کے بدلے نہیں: ربا سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۰

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ ، وَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ " .

ابوسعید روایت:

ہمیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں کھجور اور درہم کے تبادلے کا ایک اہم تجارتی حکم بیان ہوا ہے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں مختلف قسم کی کھجوریں ملی جلی صورت میں ملتی تھیں، اور وہ دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے بیچ دیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلے نہ بیچی جائے، اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں۔ اس حدیث کا تعلق ربا سے بچنے اور تبادلے میں برابر اصول رکھنے سے ہے۔ متن میں کھجور اور درہم کی مثال آئی ہے، اس لیے ہمیں اسی مثال سے یہ سمجھنا چاہیے کہ لین دین میں نفع کے نام پر ایسا فرق نہ رکھا جائے جس سے ممنوع صورت پیدا ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے بیچنے سے منع کیا گیا۔
  • دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچنے سے بھی منع کیا گیا۔
  • تبادلے کے معاملات میں شرعی حد کا خیال ضروری ہے۔
  • کاروبار میں فائدہ لیتے وقت ربا والی صورت سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں