صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۱ - دعوت کے آداب اور مہمان نوازی

دعوت کے آداب: مہمان نوازی اور اجازت کا نبوی طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۱

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ ، فَقَالَ لِغُلَامٍ لَهُ قَصَّابٍ : اجْعَلْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ ، فَإِنِّي قَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ ، فَدَعَاهُمْ فَجَاءَ مَعَهُمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ هَذَا قَدْ تَبِعَنَا ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَأْذَنْ لَهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ يَرْجِعَ رَجَعَ ، فَقَالَ : لَا ، بَلْ قَدْ أَذِنْتُ لَهُ .

ابومسعود روایت:

انصار میں سے ایک صحابی جن کی کنیت ابوشعیب رضی اللہ عنہ تھی، تشریف لائے اور اپنے غلام سے جو قصاب تھا۔ فرمایا کہ میرے لیے اتنا کھانا تیار کر جو پانچ آدمی کے لیے کافی ہو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ اور چار آدمیوں کی دعوت کا ارادہ کیا، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کا اثر نمایاں دیکھا ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور صاحب بھی آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک اور صاحب زائد آ گئے ہیں۔ مگر آپ چاہیں تو انہیں بھی اجازت دے سکتے ہیں، اور اگر چاہیں تو واپس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع دعوت کے آداب اور مہمان نوازی ہے۔ حضرت ابو شعیب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا تو کھانے کا انتظام کیا۔ انہوں نے خاص طور پر پانچ آدمیوں کے لیے کھانا تیار کروایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص مزید ساتھ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میزبان کے حق کا خیال رکھا اور صاف فرمایا کہ ایک آدمی زائد آ گیا ہے، آپ چاہیں تو اجازت دیں اور چاہیں تو واپس کر دیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت میں میزبان کی اجازت بہت اہم ہے۔ ساتھ ہی میزبان نے خوش دلی سے اجازت دے دی، جو مہمان نوازی کی خوبصورت مثال ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کے گھر جاتے وقت آداب، اجازت اور دوسرے کے حق کا خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت میں میزبان کی اجازت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • ضرورت مند کو دیکھ کر کھانا کھلانا اچھا عمل ہے۔
  • مہمان نوازی خوش دلی اور نرمی کے ساتھ ہونی چاہیے۔
  • کسی کے ساتھ اضافی آدمی لے جانے پر میزبان کو اختیار دینا ادب ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں