صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۲ - خرید و فروخت میں سچائی

خرید و فروخت میں سچائی: برکت والی تجارت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۲

حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ قَالَ : حَتَّى يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا ، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا ، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " .

حکیم بن حزام روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں) یا آپ نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے) «حتى يتفرقا» فرمایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع خرید و فروخت میں سچائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف بتایا کہ اگر دونوں سچ بولیں اور بات کھول کر بیان کریں تو ان کی بیع میں برکت دی جاتی ہے۔ اگر وہ کوئی بات چھپائیں یا جھوٹ بولیں تو ان کی خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔ اس حدیث سے تجارت کے آداب بہت واضح ہوتے ہیں۔ سودا کرتے وقت مال کی اصل حالت بتانا، قیمت اور عیب میں دھوکہ نہ دینا اور سچائی سے معاملہ کرنا ضروری ہے۔ برکت والی تجارت صرف زیادہ نفع کا نام نہیں، بلکہ صاف معاملہ، سچی بات اور اعتماد کا نام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خرید و فروخت میں سچ بولنا چاہیے۔
  • مال کا عیب یا اہم بات چھپانا درست نہیں۔
  • بیچنے اور خریدنے والے کو جدا ہونے سے پہلے اختیار ہے۔
  • جھوٹ اور چھپانے سے تجارت کی برکت ختم ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں