صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۹ - عیب دار جانور کی خرید

عیب دار جانور کی خرید: معاملہ صاف رکھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۹۹

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ عَمْرٌو : " كَانَ هَاهُنَا رَجُلٌ اسْمُهُ : نَوَّاسٌ ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ هِيمٌ ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَاشْتَرَى تِلْكَ الْإِبِلَ مِنْ شَرِيكٍ لَهُ ، فَجَاءَ إِلَيْهِ شَرِيكُهُ ، فَقَالَ : بِعْنَا تِلْكَ الْإِبِلَ ، فَقَالَ : مِمَّنْ بِعْتَهَا ؟ قَالَ : مِنْ شَيْخٍ ، كَذَا ، وَكَذَا ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ذَاكَ ، وَاللَّهِ ابْنُ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلًا هِيمًا وَلَمْ يَعْرِفْكَ ، قَالَ : فَاسْتَقْهَا ، قَالَ : فَلَمَّا ذَهَبَ يَسْتَاقُهَا ، فَقَالَ : دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا عَدْوَى " ، سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا .

عمرو بن دینار روایت:

یہاں (مکہ میں) ایک شخص نواس نام کا تھا۔ اس کے پاس ایک بیمار اونٹ تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اس کے شریک سے وہی اونٹ خرید لائے۔ وہ شخص آیا تو اس کے ساجھی نے کہا کہ ہم نے تو وہ اونٹ بیچ دیا۔ اس نے پوچھا کہ کسے بیچا؟ شریک نے کہا کہ ایک شیخ کے ہاتھوں جو اس طرح کے تھے۔ اس نے کہا افسوس! وہ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ساتھی نے آپ کو مریض اونٹ بیچ دیا ہے اور آپ سے اس نے اس کے مرض کی وضاحت بھی نہیں کی۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر اسے واپس لے جاؤ۔ بیان کیا کہ جب وہ اس کو لے جانے لگا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا رہنے دو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہیں (آپ نے فرمایا تھا کہ) «لا عدوى‏.‏» (یعنی امراض چھوت والے نہیں ہوتےعلی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان نے اس روایت کو عمرو سے سنا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع خرید و فروخت میں عیب بتانا اور معاملہ صاف رکھنا ہے۔ مکہ میں نواس نامی شخص کے پاس بیمار اونٹ تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے شریک سے وہ اونٹ خرید لیے۔ جب اصل مالک کو معلوم ہوا کہ خریدار عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں تو وہ آیا اور بتایا کہ میرے ساتھی نے آپ کو بیمار اونٹ بیچ دیے، مگر بیماری کی وضاحت نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پہلے فرمایا کہ پھر انہیں لے جاؤ۔ جب وہ لے جانے لگا تو آپ نے فرمایا کہ رہنے دو، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی ہیں: لا عدویٰ۔ اس روایت میں عیب کی خبر دینے اور معاملے کی وضاحت کا پہلو بہت نمایاں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیچتے وقت عیب یا بیماری کی بات چھپانی نہیں چاہیے۔
  • خریدار کو معاملے کی حقیقت بتانا امانت ہے۔
  • حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے معاملے میں نرمی دکھائی۔
  • روایت میں لا عدویٰ کا قول بھی بیان ہوا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں