صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۰ - تحفہ بیچ کر جائیداد خریدنا
تحفہ بیچ کر جائیداد خریدنا: ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح بخاری : ۲۱۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَأَعْطَاهُ يَعْنِي دِرْعًا ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ " .
ابوقتادہ روایت:
ہم غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک زرہ تحفہ دی اور میں نے اسے بیچ دیا۔ پھر میں نے اس کی قیمت سے قبیلہ بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جائیداد تھی جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تحفے کو استعمال کرنا اور اس سے جائیداد خریدنا ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک زرہ عطا فرمائی۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وہ زرہ بیچ دی اور اس کی قیمت سے قبیلہ بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد یہ پہلی جائیداد تھی جو انہوں نے حاصل کی۔ اس حدیث میں تحفے، مال کے جائز استعمال اور اپنی ضرورت کے مطابق خرید و فروخت کا پہلو موجود ہے۔ روایت میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حاصل شدہ مال کو فائدہ مند چیز میں لگایا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ملنے والی چیز کو جائز طریقے سے بیچا جا سکتا ہے۔
- مال کو فائدہ مند جائیداد میں لگایا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ عطا فرمائی۔
- حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی پہلی جائیداد کا ذریعہ بنایا۔
