صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۸ - حج کے موسم میں تجارت
حج کے موسم میں تجارت: جائز کاروبار کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۰۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۹۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتْ عُكَاظٌ ، وَمَجَنَّةُ ، وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ ، تَأَثَّمُوا مِنَ التِّجَارَةِ فِيهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ سورة البقرة آية 198 " ، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ ، قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، كَذَا .
ابن عباس روایت:
عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز یہ سب زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس عليكم جناح** في مواسم الحج»، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی طرح قرآت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حج کے موسم میں تجارت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان بازاروں میں تجارت کرنے کو گناہ سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ تم پر کوئی گناہ نہیں، یعنی حج کے موسموں میں تجارت کے بارے میں یہ رہنمائی آئی۔ روایت میں خاص طور پر ان بازاروں کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا گیا کہ مسلمان اس معاملے میں احتیاط کی وجہ سے تجارت سے رکنا چاہتے تھے۔ اس حدیث سے سمجھ آتا ہے کہ عبادت کے موسم میں جائز تجارت، جب دینی حدود کے اندر ہو، بذات خود گناہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے موسم میں جائز تجارت کو گناہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
- دینی معاملے میں غلط فہمی ہو تو اللہ کا حکم اصل رہنمائی ہے۔
- جاہلیت کے بازاروں کا ذکر اس روایت میں بطور پس منظر آیا ہے۔
- تجارت جائز ہو تو عبادت کے موسم میں بھی ہو سکتی ہے۔
