صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۰ - مکہ کی حرمت
مکہ کی حرمت کی حدیث: حرم کے آداب اور حدود
صحیح بخاری : ۲۰۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۹۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي ، وَإِنَّمَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقْطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ " ، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُيُوتِنَا ، فَقَالَ : إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : هَلْ تَدْرِي مَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ؟ هُوَ أَنْ تُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ وَتَنْزِلَ مَكَانَهُ ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : عَنْ خَالِدٍ : لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے۔ یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی ایک دن چند لمحات کے لیے حلال ہوا تھا۔ سو اب اس کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، نہ اس کے شکار بھگائے جائیں، اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ صرف «معرف» (یعنی گمشدہ چیز کو اصل مالک تک اعلان کے ذریعہ پہنچانے والے) کو اس کی اجازت ہے۔عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر کے لیے اجازت دے دیجئیے، کہ یہ ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے کام میں آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی۔ عکرمہ نے کہا، یہ بھی معلوم ہے کہ حرم کے شکار کو بھگانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ (کسی درخت کے سائے تلے اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو) تم سائے سے اسے ہٹا کر خود وہاں بیٹھ جاؤ۔عبدالوہاب نے خالد سے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے کہ (اذخر) ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے کام میں آتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مکہ کی حرمت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا ہے۔ یہ نہ آپ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ آپ کے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی صرف دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ہوئی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مکہ کی گھاس نہ کاٹی جائے، درخت نہ کاٹے جائیں، شکار نہ بھگایا جائے اور گری ہوئی چیز نہ اٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اعلان کر کے مالک تک پہنچائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اذخر کی ضرورت بتائی تو اس کی اجازت دی گئی۔ یہ حدیث حرم کے آداب، احترام اور احتیاط کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مکہ مکرمہ کی حرمت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
- حرم میں درخت، گھاس اور شکار کے بارے میں احتیاط لازم ہے۔
- گری ہوئی چیز مالک تک پہنچانے کی نیت سے اٹھائی جا سکتی ہے۔
- اذخر کے بارے میں خاص اجازت روایت میں بیان ہوئی ہے۔
