صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۱ - ایمان پر ثابت قدمی
ایمان پر ثابت قدمی: قرض اور آزمائش کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۰۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۹۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : " كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ ، أَتَقَاضَاهُ ؟ قَالَ : لَا ، أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ، ثُمَّ تُبْعَثَ ، قَالَ : دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ ، فَسَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ ، فَنَزَلَتْ : أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا { 77 } أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا { 78 } سورة مريم آية 77-78 " .
خباب بن ارت روایت:
جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۰۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان پر ثابت قدمی ہے۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں وہ لوہار کا کام کرتے تھے اور عاص بن وائل پر ان کا قرض تھا۔ جب وہ قرض لینے گئے تو اس نے کہا کہ جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرو گے، میں قرض نہیں دوں گا۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے صاف جواب دیا کہ وہ انکار نہیں کریں گے۔ پھر عاص نے آخرت، مال اور اولاد کے بارے میں بے بنیاد بات کہی، جس پر آیت نازل ہوئی کہ کیا اسے غیب کا علم ہے یا اس نے اللہ کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہے؟ اس حدیث میں حق پر قائم رہنے، قرض کے حق اور ایمان کی حفاظت کا مضبوط سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالی دباؤ میں بھی ایمان سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
- قرض ادا کرنا ایک حق ہے، اسے ایمان کے خلاف شرط سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
- غیب کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ درست نہیں۔
- مومن کو آزمائش میں بھی صاف اور مضبوط بات کرنی چاہیے۔
