صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۳ - حلال کمائی اور حرام مال
حلال کمائی کی حدیث: مال کہاں سے آ رہا ہے؟
صحیح بخاری : ۲۰۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۳
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ ، أَمِنْ حَلَالٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حلال کمائی اور حرام مال سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ ایک زمانہ آئے گا جب انسان یہ پرواہ نہیں کرے گا کہ مال کہاں سے لیا، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے۔ یہ بات بہت سنجیدہ ہے، کیونکہ مال صرف کمانے کی چیز نہیں بلکہ اس کے طریقے کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ سوچ دیتی ہے کہ آمدنی، کاروبار، نوکری، خرید و فروخت اور لین دین میں حلال حرام کا فرق نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی اگر صرف پیسے کو دیکھے اور طریقے کو بھول جائے تو یہ خطرناک رویہ ہے۔ اس لیے مسلمان کے لیے حلال کمائی، صاف لین دین اور جائز ذریعہ اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کمانے سے پہلے ذریعہ دیکھنا چاہیے۔
- حلال اور حرام کمائی میں فرق کرنا ضروری ہے۔
- صرف مال کی زیادتی کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔
- لین دین میں دینی احتیاط ختم ہونا خطرے کی بات ہے۔
