صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۴ - شراب کی تجارت کی حرمت
شراب کی تجارت حرام: حرام کاروبار سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۰۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَمَّا نَزَلَتْ آخِرُ الْبَقَرَةِ ، قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
عائشہ روایت:
جب (سورۃ) بقرہ کی آخری آیتیں «الذين يأكلون الربا *** الخ» نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد ان پر شراب کی تجارت حرام کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع شراب کی تجارت کی حرمت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں جن میں سود کا ذکر آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں صحابہ کو پڑھ کر سنایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی تجارت حرام کر دی۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسجد میں اللہ کا حکم سناتے تھے، اور دوسری یہ کہ حرام چیز کی تجارت بھی حرام قرار دی گئی۔ اس سے حلال کاروبار کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ مسلمان کے لیے صرف خرید و فروخت کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس چیز کا کاروبار کیا جا رہا ہے وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حرام چیز کی تجارت سے بچنا چاہیے۔
- اللہ کے حکم کو سن کر عمل کرنا ضروری ہے۔
- کاروبار میں چیز کی حلت و حرمت کا خیال رکھا جائے۔
- دینی حکم لوگوں تک واضح انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
