صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۵ - سود کھانے والے کا انجام

سود کھانے والے کا انجام: ربا سے ڈرانے والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۵

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي ، فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ ، وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ ، فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ ، رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ ، فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ ، فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ ، آكِلُ الرِّبَا " .

سمرہ بن جندب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات (خواب میں) میں نے دو آدمی دیکھے، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے، وہاں (نہر کے کنارے) ایک شخص کھڑا ہوا تھا، اور نہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا۔ (نہر کے کنارے پر) کھڑے ہونے والے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا۔ میں نے (اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے) پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع سود یعنی ربا سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ایک منظر دیکھا کہ ایک آدمی خون کی نہر میں ہے۔ جب وہ باہر نکلنا چاہتا ہے تو کنارے پر کھڑا شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے اور وہ واپس اسی جگہ چلا جاتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ہے تو بتایا گیا کہ یہ سود کھانے والا انسان ہے۔ اس حدیث میں سود کی برائی کو بہت سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں بات صرف مالی معاملے کی نہیں، بلکہ ایسے مال کی ہے جو انسان کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے سود، ربا اور ناجائز مالی فائدے سے بچنا مسلمان کے لیے بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سود کھانے سے سختی کے ساتھ ڈرایا گیا ہے۔
  • مالی معاملے میں ناجائز فائدہ نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
  • ربا کو معمولی کاروباری معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث سود سے بچنے کی واضح تنبیہ دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں